سابقہ ایم پی اے ندیم خادم کا خاتون صحافی کی جانب سے لگاۓ گئے الزام پر موقف

سابقہ ایم پی اے ندیم خادم کا خاتون صحافی کی جانب سے لگاۓ گئے الزام پر موقف


سابقہ ایم پی اے ندیم خادم کا خاتون صحافی کی جانب سے لگاۓ گئے الزام پر موقف
سابقہ ایم پی اے ندیم خادم کا خاتون صحافی کی جانب سے لگاۓ گئے الزام پر موقف

رپورٹ ( عبدالرحمان گجر )
کل سے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر ایک آیڈیو میسج (ریکارڈنگ) چل رہی ہے جس میں ایک خاتون صحافی نے چوہدری ندیم خادم پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ڈاکٹرز کے ساتھ ملی بھگت کر کے مریضوں کو کروناوائرس کا شکار بتاتے ہیں اور پھر انہیں زہریلا انجیکشن لگایا جاتا ہے جس سے مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے اس کے بعد لاش کے اندر سے قیمتی اعضاء نکال کر بیچ دیے جاتے ہیں

اس آیڈیو میسج کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے چوہدری ندیم خادم کا موقف سامنے آیا ہے، 
ان کا کہنا تھا کہ میں بحیثیت مسلمان ، پاکستانی شہری اور سابق رکن صوبائی اسمبلی اس بات کی وضاحت کرتا ہوں کہ آج سوشل میڈیا پہ میرے خلاف ایک خاتون ( جو کہ خود کو صحافی ظاہر کر رہی ہے ) کی طرف سے ایک بے بنیاد ، من گھڑت اور جھوٹی خبر پھیلائی جا رہی ہے۔ 
چوہدری ندیم خادم کا مزید کہنا تھا کہ میں یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا اس من گھڑت مبینہ واقعہ سے براہ راست یا بلواسطہ کوئی تعلق نہ ہے۔ میں اس خاتون کے خلاف کورٹ میں جاؤں گا اور انشاءﷲ اس پروپیگنڈہ کی تہہ تک جایا جائے گا تاکہ ان عناصر کو بےنقاب کیا جائے جو گھرمالہ خاندان کی ساکھ کو ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

Comments