ڈومیلی میں عین مرکز میں بیٹھا جعلی ڈاکٹر عامر عرف پپو لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کے ساتھ ساتھ عورتوں ماؤں بہنوں کی عزتوں پر بھی ہاتھ ڈالتا رہا
(رپورٹ ( ناصر محمود بٹ) (عبدالرحمان گجر
ڈومیلی میں عین مرکز میں بیٹھا جعلی ڈاکٹر عامر عرف پپو لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کے ساتھ ساتھ عورتوں ماؤں بہنوں کی عزتوں پر بھی ہاتھ ڈالتا رہا،
عورتیں اپنی عزت کی خاطر خاموش لیکن اس دلیر عورت سفرینہ کوثر نے قانونی کارروائی کی اور انتظامیہ کو اس کے خلاف درخواست دائر کروائی
درخواست دائر ہونے کے بعد اس کی انکوائری رورل سینٹر ڈومیلی کے ہیڈ ڈاکٹر شبیر صاحب سے کروائی گئی۔
جب ڈاکٹر شبیر صاحب کو موقف لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ عامر عرف ڈاکٹر پپو اور اس کے ساتھ کام کرنے والا لڑکا دونوں قصوروار ہیں اور انہوں نے اپنی غلطی تسلیم بھی کی، ڈاکٹر شبیر صاحب نے کہا کہ میری رپورٹ اوپن کروا کر دیکھ لیں ڈاکٹر عامر عرف پپو کوقصور وار ٹھہرایا ہے
اس کے برعکس جب ڈاکٹر عامر پپو کا موقف لیا گیا تو ڈاکٹر عامر عرف پپو کا کہنا تھا کہ یہ میرا اور میرے افسران بالا کا معاملہ ہے اور میرے میرے افسروں کے ساتھ معاملات ٹھیک جا رہے ہیں لہذا کسی دوسرے بندے کو اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے اور یہ کہ اس سے پہلے میرا نا کوئی کچھ بگاڑ سکا ہے اور نہ آگے بگاڑ سکے گا
جعلی ڈاکٹر پپو کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب کوئی ٹیم میری طرف آتی ہے تو مجھ کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا ہے۔
کیا یہ سب ثابت ہونے پر اور اس ڈاکٹر پپو کے اپنا قصور ماننے ک بعد بی کیا یہ کسی لائسنس یا میڈیکل سٹور چلانے کے لائق ہے؟
سوال یہ ہے کہ کون اس جعلی ڈاکٹر کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور کس کس شخصیات کا ہاتھ ہے اس کے سر پر سب ثبوت اس کے خلاف ہونے کے باوجود بھی کوئی اس پر ایکشن نہیں لے رہا
انتظامیہ بھی سو رہی ہے
اہلِ علاقہ کی اپیل ہے ڈی سی جہلم ۔ڈاکٹر وسیم صاحب اے سی سوہاوہ ڈرگ انسپکٹر صاحب سے کہ کوئی سخت ایکشن لیں
اور یہ بتائیں یہ بندہ پریکٹس میڈیکل لائسنس کسی بھی چیز کے قابل ہے۔جو نامحرم عورتوں کو انجکشن بھی لگائے اور وہ بھی غلط اور ان کے پوشیدہ اعضا پر لمحہ فکریہ ہے کہ انتظامیہ اتنی بے بس اور لاچار ہے کس وجہ سے؟




Comments
Post a Comment